Saturday, November 7

سعودی عرب کے شہر مدینہ کو نشانہ بنانے کی حوثی کوشش کی عرب ممالک کی شدید مذمت

Arab Countries Condemn Houthi Attempt to Target Saudi Arabia’s Madinah Region

اسلام آباد، 6 نومبر 2026 (کامران راجہ): قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے علاقے مدینہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، جبکہ مملکت کے مشرقی صوبے میں حوثیوں کا ایک ڈرون بھی مار گرایا گیا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس کوشش کو مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے، شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے، سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی قرار دیا۔ وزارت نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام جائز اقدامات کی حمایت کی۔ کویت کی وزارت خارجہ نے بھی مسلسل حملوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارت نے سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں و مقیم افراد کی جانوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوشش نہ صرف شہریوں اور مسجد نبوی ﷺ کے زائرین کے لیے خطرہ ہے بلکہ اسلامی مقدس مقامات کی حرمت پر حملہ بھی ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کو روکنے، مذہبی مقدس مقامات اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے اور ذمہ دار عناصر اور ان کے معاونین کا احتساب یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔ اردن نے بھی مدینہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے جذبات کے لیے اشتعال انگیزی، سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ اور بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ کے منشور کی پامالی قرار دیا۔ اردن کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کی۔ دوسری جانب حوثیوں نے مدینہ کو نشانہ بنانے کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ یمن میں خانہ جنگی ستمبر 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء اور دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ سعودی قیادت میں عرب اتحاد مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔