
ریاض، 9 ستمبر 2026 (نوشین): سعودی وزارت خارجہ نے اردن پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اردن اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے فوری طور پر روکنے پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ سعودی عرب نے مزید کشیدگی کی روک تھام اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے قبل جدہ میں ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ اور قومی اثاثوں کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزرا کی کونسل نے کہا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران شہروں میں شہری اور اقتصادی اہداف کے خلاف سنگین جارحیت کی، جبکہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے حوثی انتہا پسند ملیشیا کے جارحانہ رویے اور مجرمانہ طرز عمل کو واضح طور پر مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جو یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایہ ممالک کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔