
انقرہ، 6 نومبر 2026 (کامران راجہ): ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جسے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ میں معاہدے کے حق میں 279 جبکہ مخالفت میں 119 ووٹ ڈالے گئے، اس طرح 600 رکنی ایوان میں مجموعی طور پر 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے معاہدے کو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانا یا اس کے خلاف جارحیت کرنا نہیں ہے۔ حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے رکن پارلیمنٹ ضیا آلتونیالدز نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں استحکام مضبوط بنانا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے تھے، جس میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور روک تھام کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس میں طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں دفاع کے مختلف شعبوں میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی بھی شق شامل ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم اور ترک صدر نے 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں سعودی ولی عہد نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے تاریخی روابط، اسلامی اخوت و یکجہتی، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے۔