Sunday, August 30

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس آج ہوگا

Turkey, Saudi Arabia, Pakistan to Hold First Meeting Under Joint Defence Pact

استنبول، 30 اگست، 2026 (کامران راجہ): ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام پیر کو استنبول میں تینوں ممالک کے درمیان رواں ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ بات ترک وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتائی۔ 7 اگست کو طے پانے والے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کے تحت ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں باہمی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثلت رکھتا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے ذریعے کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شرکت کریں گے۔ ذریعے نے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی سلامتی کے امور شامل ہوں گے، جبکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی بہتر بنانے اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی پیداوار اور دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی کے مواقع بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان علاقائی عدم استحکام اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے تزویراتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والے ترکیہ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان اور دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو دیگر ممالک تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے، جبکہ مصر کو ممکنہ طور پر شامل کیے جانے والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق یہ معاہدہ موجودہ دفاعی اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔تینوں ممالک کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے، باہمی رابطہ کاری، فوجی ہم آہنگی، دفاعی صنعتی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے عملی طریقہ کار وضع کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔