Thursday, August 20

ایتھوپیا اور پاکستان کا زرعی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

ایتھوپیا اور پاکستان کا زرعی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد، 19 اگست 2026 (غفران): ایتھوپیا اور پاکستان نے زراعت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو اسٹاک کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے ملاقات وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اسلام آباد میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے درمیان ہوئی۔ملاقات کے دوران زرعی تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا گیا، جن میں دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور مہارت کے تبادلے کو مؤثر بنانے کے لیے زرعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔ایتھوپیا کے سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے ایتھوپیا کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومت کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالی۔انہوں نے ایتھوپیا کے گرین لیگیسی انیشی ایٹو کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جو زرعی ترقی، غذائی تحفظ، موسمیاتی لچک اور گرین اکانومی کے ذریعے پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک جامع پروگرام ہے۔

ایتھوپیا کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک گرین لیگیسی انیشی ایٹو کے حوالے سے اپنی مہارت پاکستان کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت بھی دی۔ سفیر نے وفاقی وزیر کو 2027 میں ادیس ابابا میں ہونے والی کوپ32 کی میزبانی کے لیے ایتھوپیا کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید زرعی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو اسٹاک ڈویلپمنٹ اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کو اجاگر کیا اور ایتھوپیا کے ساتھ تجربات اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداوار میں اضافے، بیجوں کی تیاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت اور زرعی میکانائزیشن کے شعبوں میں تعاون کو نمایاں طور پر وسعت دے سکتے ہیں۔