اسلام آباد، 6 اگست 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے وزارتِ قانون، انصاف و انسانی حقوق میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران نیٹلی بیکر نے حالیہ خلیجی تنازع کے دوران پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت سفارتی کوششیں کیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت اور کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار آئندہ بھی جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام علاقائی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان قانونی شعبے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں خلیجی کشیدگی کے دوران ایک متوازن اور ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک اہم رابطہ کار کے طور پر منوایا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور سفارتی روابط، اور امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطوں کی بدولت پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
خلیجی صورتحال پاکستان کے لیے براہِ راست تزویراتی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ دفاعی و اقتصادی تعلقات، خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانیوں کی موجودگی اور توانائی کی ضروریات اس تنازع کو پاکستان کے قومی مفادات سے جوڑتی ہیں۔ حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستان علاقائی فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور اختلافات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے بنیادی عوامل میں ایران کا جوہری پروگرام، بین الاقوامی پابندیاں، آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی اور مستقبل میں عسکری کارروائیوں سے متعلق خدشات شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اصل قوت کسی ایک فریق پر اثرانداز ہونے میں نہیں بلکہ تمام اہم فریقوں کے ساتھ بیک وقت مؤثر روابط برقرار رکھنے میں ہے۔ واشنگٹن، تہران، ریاض، دیگر خلیجی دارالحکومتوں اور بیجنگ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات اسے اعتماد سازی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بناتے ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی عالمی سفارت کاری میں رابطہ کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے، خصوصاً 1970 کی دہائی کے اوائل میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں۔ اگرچہ موجودہ عالمی حالات مختلف ہیں، تاہم یہ تاریخی پس منظر آج بھی پاکستان کی اس حیثیت کو مضبوط بناتا ہے کہ وہ متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت اور سفارتی رابطوں کے فروغ میں ایک قابلِ اعتماد کردار ادا کر سکتا ہے۔
