Friday, April 4

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا یمن کے سیاسی و انسانی بحران کے حل کے لیے قابلِ عمل روڈ میپ کا مطالبہ

*The Permanent Mission of Pakistan to the United Nations* *(Information Section)* ***** *Press Release* *At UNSC, Pakistan Demands a Viable Roadmap to Address Political & Humanitarian Crisis in Yemen* *United Nations, February 13, 2025:* Pakistan has called for a viable roadmap leading to a nationwide ceasefire, and a structured political process, one which is also capable of addressing critical economic and humanitarian challenges facing Yemen, warning that the resumption of military operations will further exacerbate the conflict. In a UN Security Council briefing on Yemen today, Ambassador Munir Akram, Pakistan’s Permanent Representative to the UN, said that the ongoing conflict in Yemen has emerged as a multidimensional crisis with global implications. He said that the efforts needed to be accelerated to address the various facets of this crisis through effective diplomacy and a collective response. While welcoming the release of the crew of the Galaxy leader, the Pakistan UN Ambassador strongly condemned the arbitrary detention of UN personnel and the staff of international and national NGOs and diplomatic missions by Ansar-Allah. “We are appalled at the tragic death of a World Food Programme staff member in Houthi custody in Saada and extend our deepest condolences to his family and loved ones. These actions are a blatant violation of international humanitarian law,” he said. He urged the international community to ensure the safety and security of UN personnel and called for accountability for such actions. He also demanded the immediate and unconditional release of all detained UN personnel. Highlighting the grave humanitarian crisis in Yemen, Ambassador Munir Akram said that nearly half of the population, 17 million people, faces acute food insecurity, while climate change-induced disasters, including floods and droughts, have displaced approximately 4.5 million individuals. He said that the ongoing crisis necessitates a well-coordinated and robust international response and appealed to the donor countries to enhance their contributions to the 2025 Humanitarian Response Plan for Yemen. Pakistan also condemned the Houthi attacks on commercial and merchant vessels and noted the Secretary-General’s report of 7 February 2025, which indicates that no new incidents of attacks on shipping have been recorded in the past month. Ambassador Akram said that this development is obviously related to the ceasefire in Gaza. “It is imperative to therefore ensure that the ceasefire in Gaza continues and all three phases of the ceasefire agreement are implemented, for the sake of peace in the occupied Palestinian territories as well as in the broader region, including Yemen,” he maintained. Ambassador Akram said that the December 2023 negotiations marked a significant step forward in Yemen. He said it is imperative to preserve and consolidate the progress so far, and ensure the full implementation of commitments toward lasting peace. He also reiterated Pakistan’s full support for the efforts of the Special Envoy to facilitate a Yemeni-led and Yemeni-owned political process under UN auspices. “We reaffirm our support for the efforts of the United Nations, Special Envoy Grundberg, as well as regional initiatives, particularly by Saudi Arabia and Oman to facilitate a negotiated political settlement.” Ambassador Munir Akram said that we stand in solidarity with the people of Yemen in their pursuit for peace, stability and prosperity. The Pakistan Tumes Pakistan Times

اقوام متحدہ، 13 فروری (نوشین راجہ) 2025:پاکستان نے یمن میں ملک گیر جنگ بندی اور ایک منظم سیاسی عمل کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو نہ صرف جاری بحران کا خاتمہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یمن کو درپیش سنگین اقتصادی و انسانی چیلنجز کا بھی مؤثر حل پیش کرے۔ پاکستان نے متنبہ کیا کہ فوجی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز اس تنازع کو مزید سنگین بنا دے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کے مسئلے پر منعقدہ بریفنگ کے دوران، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے کہا کہ یمن میں جاری تنازع ایک کثیرالجہتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بحران کے مختلف پہلوؤں کے حل کے لیے مؤثر سفارت کاری اور اجتماعی ردعمل پر زور دیا۔

یمن میں “گیلکسی لیڈر” کے عملے کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے، پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے عملے، بین الاقوامی و مقامی این جی اوز، اور سفارتی مشنز کے عملے کی غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا: “ہم عالمی خوراک پروگرام (WFP) کے ایک ملازم کی حوثی حراست میں المناک ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”

انہوں نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے اقدامات کے مرتکب افراد کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا، نیز تمام زیرِ حراست اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر زور دیا۔

سفیر منیر اکرم نے یمن میں جاری شدید انسانی بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی، یعنی 1.7 کروڑ افراد، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی قدرتی آفات، جیسے سیلاب اور خشک سالی، مزید 45 لاکھ افراد کی نقل مکانی کا سبب بنی ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے مربوط اور مضبوط حکمتِ عملی اپنائے اور 2025 کے یمن انسانی امدادی منصوبے کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کرے۔

پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے تجارتی و مال بردار جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے 7 فروری 2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سمندری جہاز رانی پر کوئی نیا حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔

سفیر منیر اکرم نے کہا: “یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ غزہ میں جاری جنگ بندی کا اس صورتِ حال سے براہِ راست تعلق ہے۔ لہٰذا، یہ انتہائی ضروری ہے کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھی جائے اور اس کے تینوں مراحل پر مکمل عمل درآمد ہو، تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ پورے خطے، بشمول یمن، میں استحکام پیدا ہو۔”

پاکستانی مندوب نے دسمبر 2023 میں یمن کے تنازع کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اس عمل کو جاری رکھنے اور کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب، ہانس گرنڈ برگ، اور سعودی عرب و عمان کی علاقائی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، تاکہ ایک جامع اور پائیدار سیاسی حل نکالا جا سکے۔

“ہم یمنی قیادت کے تحت، یمنی عوام کے لیے ایک سیاسی حل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں طے پائے۔”

سفیر منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان یمن کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کی جدوجہد برائے امن، استحکام اور خوشحالی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔