اقوام متحدہ، 13 فروری (نوشین راجہ) 2025:پاکستان نے یمن میں ملک گیر جنگ بندی اور ایک منظم سیاسی عمل کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو نہ صرف جاری بحران کا خاتمہ کرے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یمن کو درپیش سنگین اقتصادی و انسانی چیلنجز کا بھی مؤثر حل پیش کرے۔ پاکستان نے متنبہ کیا کہ فوجی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز اس تنازع کو مزید سنگین بنا دے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کے مسئلے پر منعقدہ بریفنگ کے دوران، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے کہا کہ یمن میں جاری تنازع ایک کثیرالجہتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بحران کے مختلف پہلوؤں کے حل کے لیے مؤثر سفارت کاری اور اجتماعی ردعمل پر زور دیا۔
یمن میں “گیلکسی لیڈر” کے عملے کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے، پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے عملے، بین الاقوامی و مقامی این جی اوز، اور سفارتی مشنز کے عملے کی غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا: “ہم عالمی خوراک پروگرام (WFP) کے ایک ملازم کی حوثی حراست میں المناک ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”
انہوں نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے اقدامات کے مرتکب افراد کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا، نیز تمام زیرِ حراست اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر زور دیا۔
سفیر منیر اکرم نے یمن میں جاری شدید انسانی بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی، یعنی 1.7 کروڑ افراد، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی قدرتی آفات، جیسے سیلاب اور خشک سالی، مزید 45 لاکھ افراد کی نقل مکانی کا سبب بنی ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے مربوط اور مضبوط حکمتِ عملی اپنائے اور 2025 کے یمن انسانی امدادی منصوبے کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کرے۔
پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے تجارتی و مال بردار جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے 7 فروری 2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سمندری جہاز رانی پر کوئی نیا حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔
سفیر منیر اکرم نے کہا: “یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ غزہ میں جاری جنگ بندی کا اس صورتِ حال سے براہِ راست تعلق ہے۔ لہٰذا، یہ انتہائی ضروری ہے کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھی جائے اور اس کے تینوں مراحل پر مکمل عمل درآمد ہو، تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ پورے خطے، بشمول یمن، میں استحکام پیدا ہو۔”
پاکستانی مندوب نے دسمبر 2023 میں یمن کے تنازع کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اس عمل کو جاری رکھنے اور کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب، ہانس گرنڈ برگ، اور سعودی عرب و عمان کی علاقائی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، تاکہ ایک جامع اور پائیدار سیاسی حل نکالا جا سکے۔
“ہم یمنی قیادت کے تحت، یمنی عوام کے لیے ایک سیاسی حل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں طے پائے۔”
سفیر منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان یمن کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کی جدوجہد برائے امن، استحکام اور خوشحالی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔