
تہران، 25 اکتوبر 2026 (نوشین): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں بھی ایران کی پالیسیوں اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، جبکہ ایران پر نئے حملوں کی دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تہران میں ایک ٹیلی وژن پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں نئی جنگ کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں، تاہم وہ پہلے ہی جنگ کے بعد کی صورتحال کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی میں بھی دو مرتبہ فوجی کارروائیاں کی جاچکی ہیں اور ان کے نتائج سامنے آچکے ہیں، لہٰذا اگر دوبارہ کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہوگا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعے کو دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی، جسے ’’ایپک فیوری‘‘ کہا گیا، کرسکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد شدید لڑائی کا سلسلہ رک گیا تھا، تاہم عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کے اطراف وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔ حالیہ ہفتوں میں فوجی کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن ایران نے جنگ کے آغاز سے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ برقرار رکھا ہے اور اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بھی بنایا ہے، جس پر امریکا اور خطے کے دیگر ممالک نے سخت مخالفت کی ہے۔ اس کے جواب میں امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جون میں ایران اور امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد تنازع کے مستقل حل کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث یہ پیش رفت ناکام ہوگئی۔ تہران اب بھی تنازع کے خاتمے کے لیے اس معاہدے کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ جنگ نے خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے اور اس کے انتظامات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے غیر ملکی افواج کی مکمل عدم موجودگی ضروری ہے۔