Sunday, August 30

آزاد کشمیر کے وزیراعظم گلانی کا خطے بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی فوری بحالی کا اعلان

AJK Prime Minister Gilani Pledges Swift Restoration of Internet Services Across Region

مظفرآباد، 30 اگست 2026 (غفران): آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گلانی نے خطے بھر میں انٹرنیٹ سروسز دو روز کے اندر بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں تعلیمی اداروں کو ترجیح دی جائے گی۔ وزیراعظم گلانی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورہ سینٹرل پریس کلب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال کی جائیں گی تاکہ شہریوں اور اداروں کو مواصلاتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی 48 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا۔ رواں سال کے آغاز میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ بعد ازاں آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ وزیراعظم گلانی نے کہا کہ اچھی طرز حکمرانی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر ان کی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے عوامی مسائل کے فوری حل، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور ضروری شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر افتخار گلانی نے 28 اگست کو آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ وہ ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص نشست پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

وزیراعظم کے انتخاب میں گلانی نے اسمبلی میں 30 ووٹ حاصل کیے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو شکست دی، جنہیں 14 ووٹ ملے۔ بیرسٹر افتخار گلانی پہلی مرتبہ 2011 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور وہ آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔ حالیہ تین مرحلوں پر مشتمل عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے 25 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 11 نشستیں حاصل کیں۔ میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں ہونے والے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے نو جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں حاصل کیں۔ دوسرے مرحلے میں، جو 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں اور تمام 12 مہاجر حلقوں میں منعقد ہوا، مسلم لیگ (ن) نے 15 جبکہ پیپلز پارٹی نے چھ نشستیں جیتیں۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں دو حلقوں کے نتائج سامنے آئے، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک، ایک نشست حاصل کی، جس کے بعد عام نشستوں پر دونوں جماعتوں کی مجموعی تعداد بالترتیب 25 اور 11 ہوگئی۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے آٹھ میں سے چھ مخصوص نشستیں بھی حاصل کرلیں، جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اس کی مجموعی نشستوں کی تعداد 31 ہوگئی۔ وزیراعظم بیرسٹر افتخار گلانی نے عوامی مسائل کے حل، بہتر طرز حکمرانی اور آزاد جموں و کشمیر میں بنیادی و ضروری سہولیات کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔