
ویانا، 10 ستمبر 2026 (کامران راجہ): بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے شام کی اسد خاندان کے دور حکومت میں جاری رہنے والی خفیہ جوہری سرگرمیوں کا معاملہ ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شام کی نئی حکومت نے تمام زیر التوا سوالات کے حل میں تعاون کیا ہے۔ 35 رکنی بورڈ نے 2011 میں شام کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیج دیا تھا۔ یہ پیش رفت 2007 میں شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک مقام پر اسرائیلی حملے کے بعد سامنے آئی تھی، جسے اسرائیل نے تکمیل کے قریب ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر قرار دیا تھا۔ اس کے بعد آئی اے ای اے نے شام سے اس کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم شام نے اس وقت ایسا نہیں کیا۔ 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی حکومت نے ماضی کی جوہری سرگرمیوں کی وضاحت کے لیے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ گزشتہ ہفتے رکن ممالک کو فراہم کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں آئی اے ای اے نے کہا کہ اس نے بورڈ کو پہلے رپورٹ کیے گئے تمام زیر التوا معاملات سے متعلق سوالات حل کر لیے ہیں۔ بدھ کے روز منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ شام اب اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں رہا اور اس کے شفاف رویے اور تعاون کو سراہا گیا۔ مصر، اردن، مراکش اور سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی، جبکہ سفارت کاروں کے مطابق کسی ملک نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ آئی اے ای اے نے یہ بھی تصدیق کی کہ 2007 میں بمباری کا نشانہ بننے والا مقام غالباً جوہری ری ایکٹر تھا اور اس کے لیے ایندھن شام میں تیار کیا گیا تھا۔ ایجنسی نے شام میں تقریباً 73 میٹرک ٹن قدرتی یورینیم دھات بھی دریافت کی، جس کا زیادہ تر حصہ ایندھن کی سلاخوں کی شکل میں تھا۔ یہ مواد اب آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہے، جبکہ شام نے کہا ہے کہ یہ ملک میں ہی موجود رہے گا۔