Sunday, September 20

آئی او جے کے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر وفد کا اظہار تشویش

Delegation raises human rights concerns over IIOJK at UNHRC

اسلام آباد، 20 ستمبر 2026 (کامران راجہ): بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپس کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں شہری، سیاسی، سماجی اور ثقافتی حقوق پر وسیع پابندیوں کی نشاندہی کی۔ ہفتے کو موصول ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق وفد نے جنرل ڈیبیٹ کے دوران ایجنڈا آئٹم 3 کے تحت کونسل سے خطاب کیا، جبکہ انسانی حقوق کونسل کا 63واں اجلاس 7 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 تک جنیوا میں جاری ہے۔ وفد میں یونائیٹڈ ولیجز کے ایڈووکیٹ پرویز شاہ، ورلڈ مسلم کانگریس کے ڈاکٹر راجہ سجاد، کمیونٹی ایڈووکیسی سینٹر کی ڈاکٹر شگفتہ اشرف، انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کی مہرونسا رحمان اور کمیشن آن ہیلتھ اینڈ ہیومن رائٹس پروموٹرز کی ماریا اقبال ترانہ شامل تھیں۔ نمائندگان نے کہا کہ آزادیِ رائے اور اظہار پر شدید پابندیاں عائد ہیں اور نگرانی، شہری آزادیوں پر قدغنوں اور کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو متاثر کرنے والے نام نہاد ’’ڈیجیٹل محاصرے‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے زمینوں پر قبضوں اور آبادیاتی تبدیلیوں کے الزامات کے ساتھ ساتھ مسلم آبادی کے مذہبی حقوق کو متاثر کرنے والی پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ وفد نے من مانی حراست، تشدد، جبری گمشدگیوں اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے الزامات بھی اجاگر کیے جبکہ کتابوں پر پابندیوں اور تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی، جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ان سے کشمیر کی تاریخ اور سیاسی شناخت کے تحفظ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ وفد نے کہا کہ ’’عالمی برادری کشمیر میں انسانی وقار کو منظم انداز میں پامال کیے جانے پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔‘‘ نمائندگان نے انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ ٹھوس اقدامات کرے اور مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور بین الاقوامی قانون کے تحت احتساب یقینی بنانے کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل بین الاقوامی توجہ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔