کوپن ہیگن، 29 اگست 2026 — نیوز ڈیسک: دو ماہرین کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گرین لینڈ میں ڈنمارک کے جبری مانع حمل پروگرام نے خواتین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی، تاہم اسے قانونی طور پر نسل کشی قرار دینے کے لیے کافی شواہد نہیں ملے۔ رپورٹس کے مطابق 1966 سے 1991 کے درمیان کم از کم 4 ہزار گرین لینڈ کی خواتین اور لڑکیوں، جن میں بعض کی عمر صرف 12 سال تھی، کو اکثر ان کی رضامندی یا علم کے بغیر آئی یو ڈی اور مانع حمل انجیکشن دیے گئے۔ ماہرین نے کہا کہ اس عمل سے خواتین کے رازداری، خاندانی زندگی اور انسانی وقار کے حقوق متاثر ہوئے۔ بعض خواتین کو انفیکشن، بانجھ پن اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ماہرین کو ایسا کافی ثبوت نہیں ملا کہ اس پروگرام کا مقصد گرین لینڈ کی آبادی کو تباہ کرنا تھا۔ تاہم، ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈنمارک نے نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی خلاف ورزی کی ہو سکتی ہے۔ گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ ماضی کے واقعات کی حقیقت سامنے لانے اور مفاہمت کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا۔ڈنمارک نے ہر متاثرہ خاتون کو 3 لاکھ ڈینش کرون معاوضہ دینے کی بھی منظوری دے دی ہے۔
