
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 10 اکتوبر کو ضلع کرم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 12 خوارج اور افغان طالبان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے نائب صوبیدار ہدایت امان نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سکیورٹی بیان کے مطابق، فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا اور دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ بیان میں کہا گیا کہ دراندازوں کی مدد کے لیے افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں سے فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی فوجی جوانوں نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔ کارروائی کے دوران 12 خوارج اور افغان طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔ شہید نائب صوبیدار ہدایت امان کی عمر 40 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع غذر سے تھا۔ بیان کے مطابق، یہ واقعہ پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ قومی ایکشن پلان کے تحت وژن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں ملک کی خودمختاری، سرحدوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں۔