Saturday, September 26

پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ساتھ امن کی تمام تجاویز زیرِ غور ہیں

Putin Says Ukraine Peace Proposals Remain on the Table

ماسکو، 26 ستمبر 2026 (غفران): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق تمام امن تجاویز اب بھی زیرِ غور ہیں، تاہم ماسکو کسی بھی اقدام سے قبل اپنے مفادات کا محتاط جائزہ لے گا۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس، پارلیمانی انتخابات کے بعد یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار تھا، تاہم ان کے بقول یوکرین نے ماسکو پر حملے کیے اور پولنگ اسٹیشنز کو نشانہ بنایا۔ پیوٹن نے ان حملوں کو اشتعال انگیز اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے جواب دیا جائے گا اور یوکرین کو ان اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی اہداف پر کیے گئے حملے یوکرین کے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کا جواب ہیں اور انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر زور دیا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ روسی جوابی کارروائیوں کے بعد یوکرین کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے مطالبات سامنے آئے، تاہم ماسکو حالیہ پیش رفت کے جواب میں آئندہ اقدامات پر غور کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین نے جون میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس اور روسی پارلیمانی انتخابات کے دوران ماسکو پر حملے کیے، جبکہ ان کے بقول یوکرینی فورسز نے پولنگ اسٹیشنز کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس امریکا اور چین کے درمیان مثبت نوعیت کے کسی بھی معاہدے کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین میں ہونے والے آئندہ ایپیک سربراہ اجلاس میں ان کی شرکت کا فیصلہ روس میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔