
ماسکو، 25 اگست 2026 (نوشین): روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت نجی مالکان کی جانب سے یوکرینی ڈرون حملوں سے اہم انفراسٹرکچر کو مناسب تحفظ فراہم نہ کرنے یا حملوں کے بعد تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی میں ناکامی کی صورت میں ریاست عارضی طور پر ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ پیر کو جاری کیے گئے فرمان کے بعد روس کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی کا سامنا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں، گوداموں اور دیگر اہم تنصیبات پر ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے ملک میں مختلف سطح پر خلل پیدا ہوا ہے۔ اس اقدام کا اطلاق توانائی، صنعتی، مواصلاتی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں کے اہم انفراسٹرکچر پر ہوگا۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ بعض کاروباری مالکان ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات پر کافی توجہ نہیں دے رہے۔ پیسکوف نے کہا کہ اہم اقتصادی انفراسٹرکچر کو لاحق خطرے کے پیش نظر روس کو ضروری اقدامات کرنے اور اپنی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ روسی نائب وزیر اعظم ڈینس مانتوروف نے کہا کہ اس فرمان کا مطلب کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینا یا ملکیت تبدیل کرنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد مخصوص سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے کسی ادارے کے انتظام میں ریاست کی شمولیت کو ممکن بنانا ہے۔ مانتوروف نے واضح کیا کہ اس اقدام کا وسیع پیمانے پر استعمال مقصود نہیں اور ہر معاملے میں اعلیٰ سطح پر محتاط اور مخصوص فیصلے کیے جائیں گے۔یہ پیش رفت روسی آئل تنصیبات پر یوکرین کے تازہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ یوکرین کے جنرل اسٹاف کے مطابق اس کی افواج نے رات گئے روس کے کراسنودار خطے میں واقع آفپسکی آئل ریفائنری کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ کراسنودار کے گورنر وینیامین کونڈراتیف نے بھی آفپسکی میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کی۔ایک الگ یوکرینی ڈرون حملے میں روس کے روستوف خطے میں واقع نووشاختنسک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا اور اس کے آپریشنز روکنا پڑے، روستوف کے گورنر یوری سلیوسار کے مطابق۔
یوکرین کے جنرل اسٹاف کے مطابق آفپسکی ریفائنری کو ایک سال کے دوران آٹھویں مرتبہ جبکہ نووشاختنسک ریفائنری کو اسی عرصے میں چوتھی مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ روسی سیاسی تجزیہ کار عباس گالیاموف نے کہا کہ یہ فرمان بار بار حملوں کا نشانہ بننے والی ریفائنریوں کے مالکان پر مرمت اور بحالی کے لیے سرمایہ کاری کا دباؤ ڈالنے کے مقصد سے اٹھایا گیا قدم ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق کمپنیاں ممکنہ طور پر اربوں ڈالر خرچ کرکے ایسی تنصیبات کی بحالی سے گریز کر رہی ہیں جنہیں دوبارہ نشانہ بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ گالیاموف کے مطابق حکومت کا پیغام یہ ہے کہ اگر مالکان تباہ شدہ ریفائنریوں کی بحالی کے لیے سرمایہ فراہم نہیں کریں گے تو ریاست ان کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔ جنگ جاری رہنے کے باعث روسی کاروباری اداروں کو وسیع تر معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ حکومت نے بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ اور اندرونی قرضوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ بڑی کمپنیوں کا ممکنہ ریاستی کنٹرول حکومت کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔تاہم، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کا کنٹرول سنبھالنا حکومت کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ بھی بن سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر فرمان کا مقصد نجی کمپنیوں کو اپنی تنصیبات کے فضائی دفاع اور ڈرون حملوں سے تحفظ کی زیادہ ذمہ داری لینے پر مجبور کرنا ہے۔ روسی حکومت نے آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز اور اس سے منسلک کاروباروں کے لیے بھی مزید امداد کی پیشکش کی ہے۔ یوکرینی حملوں میں کمپنی کے گوداموں کو بارہا نقصان پہنچا ہے۔ روسی وزارت خزانہ نے وائلڈ بیریز اور اس کے کاروباری شراکت داروں کو ٹیکس اور انشورنس ادائیگیوں کے لیے مزید مہلت دینے کی تجویز دی ہے۔ پوٹن نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ روس کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا، جبکہ دفاعی، قانون نافذ کرنے والے اور شہری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔ مئی میں روسی قانون سازوں نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت مرکزی بینک اور سرکاری ملکیت والے سبر بینک سمیت بڑے مالیاتی ادارے اپنے مراکز کو ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وہاں فضائی دفاعی نظام نصب کر سکتے ہیں۔ تازہ فرمان یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث روس میں محاذ سے دور واقع اہم اقتصادی تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ماسکو کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں ایک اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔