Sunday, August 30

ٹرمپ کا وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر جزوی امریکی کنٹرول کا اعلان

Trump Announces U.S. Partial Control of Venezuela’s Vast Oil Reserves

واشنگٹن، 29 اگست 2026 (کامران راجہ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی مفادات وینزویلا کے ثابت شدہ تیل کے 65 ارب بیرل سے زائد ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کریں گے۔ واشنگٹن کا مقصد وینزویلا کے مشکلات سے دوچار توانائی کے شعبے کو بحال کرنا اور امریکی ریفائنریوں کے لیے خام تیل کی اضافی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ نجی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے طے پایا ہے اور اس پر امریکی ٹیکس دہندگان کا کوئی خرچ نہیں آئے گا۔ یہ اعلان امریکہ اور وینزویلا کے حکام کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک طویل مدتی رسائی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ’’فائدہ مند‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کو مستحکم اور کم قیمت خام تیل کی فراہمی حاصل ہوگی، جس سے ملک میں پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ روبیو کے مطابق وینزویلا کے لیے یہ معاہدہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری لانے، ہزاروں اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کرنے اور ملکی معیشت کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے 17 اسٹریٹجک آئل فیلڈز کی ترقی سے ملک کی تیل پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق منصوبوں سے وینزویلا کی حکومت کو تقریباً 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم ملک اس وقت تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل یومیہ پیدا کر رہا ہے، جو اس کی ممکنہ پیداواری صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ برسوں کی کم سرمایہ کاری، ناقص انتظامی پالیسیوں اور امریکی پابندیوں نے وینزویلا کی تیل کی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ابھرتے ہوئے معاہدے کے تحت وینزویلا کے حکام آئندہ ہفتے متعدد کمپنیوں، خصوصاً امریکی اداروں، کو تیل کی تلاش اور پیداوار کے نئے حقوق دینے کے لیے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لیز ماڈل زیر غور تھا، جس کے تحت بعض آئل فیلڈز امریکی کمپنیوں کو نیلام کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم معاہدے کو وینزویلا میں قانونی اور آئینی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ملک کی ریاستی حکومت اب بھی تیل کے شعبے کی بنیادی سرگرمیوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے معاہدے کی حتمی ساخت، اس میں شامل کمپنیوں یا امریکہ کی جانب سے اکثریتی کنٹرول استعمال کرنے کے طریقہ کار کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی ایک فہرست کے مطابق معاہدے میں شامل تیل کے ذخائر زیادہ تر اورینوکو بیلٹ اور جھیل ماراکائیبو کے علاقوں میں واقع ہیں۔یہ معاہدہ وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں امریکہ کے ممکنہ کردار میں ایک بڑی توسیع کی نشاندہی کرتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیل کی فراہمی بڑھانے، نجی سرمایہ کاری راغب کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جبکہ واشنگٹن امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔