
نئی دہلی، 11 ستمبر 2026 (نوشین): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں مذاکرات کا آغاز کیا، جو دو ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کی دوسری ملاقات ہے، مذاکرات میں دونوں دیرینہ دوست ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ مذاکرات بھارتی دارالحکومت میں ہونے والے سالانہ برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل ہو رہے ہیں، جس میں چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر رہنما شرکت کریں گے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق مودی اور پیوٹن کے درمیان شہری جوہری توانائی، کھاد، دفاع، اہم معدنیات، صنعتی پیداوار، ریلوے اور اسٹیل کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔ دونوں رہنماؤں کی گزشتہ ملاقات 31 اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں مودی نے یوکرین جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت جنگ بندی اور امن کے لیے ہر کوشش کی حمایت کرے گا۔ بھارت اور چین روسی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، جس سے 2022 میں یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کے بعد مغربی پابندیوں کے باوجود ماسکو کو اپنی آمدنی برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔
نئی دہلی نے روسی توانائی کی خریداری جاری رکھنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بڑی آبادی اور بڑھتی ہوئی معیشت کو محفوظ، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی درکار ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ یوکرین تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ روس کے ساتھ توانائی، دھاتوں اور کھاد کی تجارت روکنے کے ذریعے۔ بھارتی خام تیل کی درآمدات میں روس کا حصہ جولائی 2026 میں ریکارڈ 51 فیصد تک پہنچ گیا تھا، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بھارتی ریفائنریوں کا انحصار روسی تیل پر بڑھ گیا، تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق اگست میں چین کی جانب سے روسی تیل کی خریداری بڑھنے کے باعث یہ حصہ کم ہونے کا امکان ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دسمبر 2025 میں بھی سالانہ بھارت روس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران دونوں ممالک نے تجارت اور دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا تھا۔