Monday, August 24

معروف اداکارہ اور مِمکری فنکارہ آشا سنگھ جیسوال 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

Veteran Actress and Mimicry Artist Aasha Singh Jaiswal Dies at 83

ممبئی، 23 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ اور مِمکری فنکارہ آشا سنگھ جیسوال 83 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال سے ہندی سینما، ٹیلی ویژن اور مِمکری کے شعبے میں ایک نمایاں فنکارانہ سفر اختتام پذیر ہوگیا۔آشا سنگھ جیسوال 22 اگست کو رات تقریباً ساڑھے 7 بجے انتقال کر گئیں۔ ان کے بیٹے آکاش بھاردواج نے والدہ کے انتقال کی تصدیق کی۔ اہل خانہ نے 23 اگست کو ممبئی کے پون ہنس شمشان گھاٹ میں ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ بیٹے آکاش بھاردواج نے انسٹاگرام پر اپنی والدہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ وابستگی اور زندگی کے حوالے سے خیالات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق آشا سنگھ جیسوال کا ماننا تھا کہ موت کو صرف غم کا باعث نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے روحانی خوشی کی جانب ایک سفر تصور کرنا چاہیے۔ آشا سنگھ جیسوال ہندی فلموں اور ٹیلی ویژن میں اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ مِمکری کے فن میں بھی نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ وہ معروف شخصیات، خصوصاً لیجنڈری اداکارہ مینا کماری کی آواز کی کامیاب نقل اتارنے کے حوالے سے جانی جاتی تھیں۔ انہیں بھارت میں مِمکری کے شعبے کی اولین خواتین فنکاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ایسے وقت میں جب یہ شعبہ روایتی طور پر مرد فنکاروں کا میدان سمجھا جاتا تھا، آشا سنگھ جیسوال کی خدمات نے خواتین کے لیے اس فن میں نمایاں مقام بنانے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے ہندی فلموں میں بھی کام کیا، جن میں شاہ رخ خان کی 1993 کی فلم بازیگر بھی شامل ہے۔ وہ بی آر چوپڑا کی مقبول ٹیلی ویژن سیریز مہابھارت کا بھی حصہ رہیں، جس میں انہوں نے کرپاچاریہ کی بہن کرپی کا کردار ادا کیا۔ اداکاری اور مِمکری کے علاوہ آشا سنگھ جیسوال کاروباری سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہیں۔ انہوں نے آشا ایونٹس اینڈ فلمز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو ثقافتی پروگراموں اور تقریبات کے انعقاد سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ وہ سماجی بہبود اور کمیونٹی کی فلاحی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہیں۔ آشا سنگھ جیسوال کے انتقال سے ایک ایسی تجربہ کار فنکارہ دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں جنہوں نے ہندی سینما اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر مردوں کے زیرِ اثر سمجھے جانے والے مِمکری کے شعبے میں خواتین کے لیے بھی اپنی نمایاں شناخت قائم کی۔