
کراچی، 19 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستانی فلم ’’منگو جٹ‘‘ نامور فنکاروں حریم فاروق، فیصل قریشی اور شمون عباسی کی موجودگی کے باوجود اپنی کمزور کہانی اور متوقع واقعات کے باعث شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حمیم پروڈکشنز کے تحت بننے والی اس فلم میں فیصل قریشی نے مراد جٹ نامی پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے، جو ایک خطرناک مجرم کو گرفتار کرنے کے لیے عام شہری کا روپ دھارتا ہے۔ اس دوران وہ لاہور میں اپنی بہن کے تین بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے۔ کہانی میں مراد جٹ کی ملاقات نور جہاں سے ہوتی ہے، جس کا کردار حریم فاروق نے ادا کیا ہے۔ نور جہاں ایک اسکول کی پرنسپل ہے اور دونوں کے درمیان رومانوی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب کہانی میں کاروباری تنازع اور بچوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کی سازش بھی شامل ہے۔ فلم میں ایکشن، رومانس، ڈراما اور رقص کے مناظر پیش کیے گئے ہیں، تاہم روایتی اور پہلے سے متوقع واقعات کہانی کے اثر کو کم کر دیتے ہیں۔ فلم پر ہونے والی تنقید میں گانوں کی غیر ضروری شمولیت، غیر متعلقہ ضمنی کہانیوں اور بعض اہم واقعات کی وضاحت نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر گانا ’’انکھاں وچ‘‘ ایک میلے کے دوران پیش کیا گیا ہے، لیکن کہانی میں اس موقع کی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔ اسی طرح یہ بھی مناسب طور پر واضح نہیں کیا گیا کہ اغوا کاروں کو مراد جٹ کی خفیہ شناخت کا علم کیسے ہوتا ہے، جس سے کہانی کا ایک اہم پہلو ادھورا رہ جاتا ہے۔ معروف فنکاروں اور پنجابی سنیما کے روایتی عناصر کے باوجود فلم ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ جائزے کے مطابق صرف بڑے نام کسی فلم کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے، بلکہ ایک اچھی فلم کے لیے مضبوط کہانی، مؤثر کردار اور واقعات کی مربوط پیش کش ضروری ہے تاکہ ناظرین فلم دیکھنے کے بعد ایک یادگار تجربہ اپنے ساتھ لے کر جائیں۔