Friday, September 11

شعیب اختر کی بابر اعظم پر تنقید، مضبوط فیصلے نہ کرنے پر سوالات

Shoaib Akhtar Criticises Babar Azam Over Decision-Making

اسلام آباد، 11 ستمبر 2026 (نوشین): پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کے دوران مضبوط فیصلے نہ کرنے پر ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لارڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں سیریز میں شکست کے بعد پاکستان نے ٹیم میں سات تبدیلیاں کیں، جن میں ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کی برطرفی بھی شامل تھی۔ تیسرے ٹیسٹ سے قبل بابر اعظم نے ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ان فیصلوں سے آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ انہوں نے نظم و ضبط سے متعلق تحقیقات اور فیصلوں سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاملے کی وضاحت پاکستان کرکٹ بورڈ بہتر طور پر کرسکتا ہے۔ پی ٹی وی کے ایک اسپورٹس پروگرام میں شعیب اختر سے ٹیم میں دورانِ سیریز ہونے والی تبدیلیوں اور بابر اعظم کے اس مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انہیں فیصلوں سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ شعیب اختر نے کہا کہ اگر وہ بابر اعظم کی جگہ ہوتے تو صورتحال مختلف انداز میں نمٹائی جاتی اور مضبوط فیصلہ سازی ضروری ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی شخصیت ان کے کھیل اور فیصلوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے اور ان کی قیادت کے مختلف پہلوؤں میں مضبوط فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ سابق فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ موجودہ ٹیم، کپتان اور دیگر کھلاڑیوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ 51 سالہ شعیب اختر نے بابر اعظم اور پاکستان کی ٹیم کی موجودہ صورتحال کو مجموعی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم پر کی جانے والی سرمایہ کاری اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں، تاہم موجودہ نظام سے مضبوط اور دوٹوک فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔