Saturday, November 7

سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے ریاض کی جانب داغا گیا حوثی کروز میزائل تباہ کر دیا

Saudi-Led Coalition Intercepts Houthi Cruise Missile Targeting Riyadh Region

ریاض، 7 نومبر 2026 (غفران): یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے سعودی عرب کے علاقے ریاض کی جانب حوثی باغیوں کی جانب سے داغا گیا کروز میزائل فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں میزائل کو حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا قرار دیتے ہوئے اس کی تباہی کی تصدیق کی۔ یہ واقعہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے فوجی اتحاد قائم کیا تھا، جس کے بعد حوثی گروپ نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء اور ملک کے دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ دوسری جانب یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صوبہ تعز کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے دوران متعدد مقامات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ فوج کے مطابق عوامی مزاحمتی فورسز کی معاونت سے سرکاری دستوں نے النیدانی گاؤں، شعب السراری، علاقے صنمت کے بڑے حصوں اور ذی البرح میں رباط القرن کے علاقے کو حوثیوں سے واپس لے لیا۔ فوج نے بتایا کہ صابر محاذ پر لڑائی جاری ہے جبکہ سرکاری فورسز نے السراری کے داخلی راستوں کا محاصرہ سخت کر دیا ہے۔ فوج کے دعوے کے مطابق جھڑپوں میں حوثی جنگجوؤں کو جانی و مادی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ سرکاری فورسز دوبارہ حاصل کیے گئے علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے اور بارودی سرنگیں صاف کرنے میں مصروف ہیں۔ ادھر یمن کی وزارت دفاع نے حوثی گروپ پر ایک مصروف عوامی بازار میں بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔