Saturday, November 7

سعودی عرب کا حوثیوں کی جانب سے 51 ارب ڈالر اور باضابطہ حکومتی تسلیم کیے جانے کے مطالبے کی رپورٹ مسترد کرنے کا اعلان

Saudi Arabia Rejects Report Claiming Houthis Demanded $51 Billion and Official Recognition

ریاض، 6 نومبر 2026 (غفران): سعودی عرب نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ساتھ جنگ بندی کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن کے حکمرانوں کی حیثیت سے باضابطہ تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ میں نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کریملی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں اور اخبار کے لکھاریوں یا ان کے ذرائع نے من گھڑت دعوے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں پر یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے، عوام کو بھوک اور مشکلات سے دوچار کرنے اور ملک کو ایسے تنازعات اور بیرونی ایجنڈوں میں دھکیلنے کا الزام عائد کیا جو یمن کے قومی مفادات کے منافی ہیں۔ رائد کریملی نے حوثی گروپ پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے اور امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت پہلے ہی موجود ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی فوجی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور طویل ناکہ بندی کے ازالے کے لیے 51 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ یمن میں اپنی حکمرانی کو باضابطہ تسلیم کرانے کی شرط بھی رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مطالبات اس وقت سامنے آئے جب سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں اپنے تیل بردار جہازوں پر حملوں اور حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کے قریب اہم تزویراتی علاقوں پر قبضے کے بعد تنازع کے مذاکراتی حل کے امکانات تلاش کرنے کے لیے حوثیوں سے رابطہ کیا۔ اخبار کے مطابق حوثیوں کو یمن کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کرنے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ مملکت کی جنوبی سرحد کے قریب ایران نواز گروپ کی پوزیشن مضبوط ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ یہ پیش رفت حوثیوں اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کی سمت پیش قدمی کے ساتھ حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی عالمی تجارت کی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔