
کیف، 4 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اتوار کو یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا، جس کا مقصد یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا، جبکہ روس نے یوکرینی شہروں پر فضائی حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ چانسلر بننے کے بعد کیف کے اپنے دوسرے دورے کے موقع پر فریڈرک مرز نے کہا کہ جرمنی یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا اور خبردار کیا کہ اگر روس کو نہ روکا گیا تو اس کی جنگی مشین مستقبل میں دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ جرمنی جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کو 43.3 ارب یورو سے زائد کی امداد، سازوسامان اور ہتھیار فراہم کرچکا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جرمنی کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک یوکرین اور وسیع تر یورپی سلامتی کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم معاہدے کریں گے۔ فریڈرک مرز اور زیلنسکی نے کیف میں یوکرین کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک متاثرہ عمارت کا دورہ بھی کیا، جہاں دارالحکومت میں فضائی حملوں کے سائرن بج رہے تھے۔ مرز نے یوکرینی شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جرمنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ جرمن چانسلر کے کیف میں موجود ہونے کے دوران بھی روسی حملے جاری رہے اور انہوں نے یوکرین کے مضبوط شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو کیف اور دیگر یوکرینی شہروں پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے جاری رکھے گا اور غیر ملکی شہریوں اور سفارت کاروں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ روس اور جرمنی کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں مزید کشیدہ ہوئے ہیں، بالخصوص لیپزگ ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کی مبینہ کوشش کے بعد، جس کا الزام جرمنی نے روس پر عائد کیا تھا۔ اتوار کو کیف میں روسی حملے جاری رہے اور ایک ڈرون نے دریائے دنیپرو پر واقع نارتھ برج کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق یوکرین کے شہر سومی میں روسی فضائی بم حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ زیلنسکی کے ان بیانات کے بعد کہ یوکرین روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر حملے بڑھائے گا، ماسکو کیف اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں فوجی اور فوجی صنعتی تنصیبات اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں میں اضافہ کرے گا۔ تازہ ترین کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین میں تقریباً 1250 کلومیٹر طویل محاذ پر لڑائی بدستور تعطل کا شکار ہے اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے واضح امکانات نظر نہیں آ رہے۔