Saturday, October 24

ترکیہ کا ایران پر نئے حملے کے خلاف انتباہ، علاقائی جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارت کاری پر زور

Turkey Warns Renewed Attack on Iran Would Widen Regional Conflict, Calls for Diplomacy

استنبول، 24 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے کشیدگی میں اضافہ اور علاقائی جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جبکہ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔ فیدان نے یہ بیان استنبول میں مصر، پاکستان، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد دیا، جس میں ایران جنگ کی تازہ صورتحال، ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب پر حملوں اور یوکرین میں روس کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ریجنل فور (آر فور) اور یورپی یونین کے ای تھری ممالک کے وزرائے خارجہ کا اٹلی کے ساتھ پہلا مشترکہ اجلاس تھا۔ فیدان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران پر نیا حملہ خطے میں جنگ کو مزید وسعت دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف فوجی مداخلت کسی صورت مسئلے کا حل نہیں اور اس وقت کوئی بھی اس کی حمایت نہیں کرتا۔ فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی خبردار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور اس سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بیانات نیویارک ٹائمز کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے اگلے ماہ امریکا میں وسط مدتی کانگریسی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے مخصوص منصوبے تیار کیے ہیں۔ امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرون ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ان کے بقول نتیجہ خیز مذاکرات ہو رہے ہیں۔ جمعے کے روز ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جنگ کو جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا واشنگٹن کو فوری طور پر جنگ ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا تنازعے کو بتدریج کم ہونے دینا چاہیے۔ نیٹو کے رکن ترکیہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے ہیں۔ انقرہ مسلسل حملے روکنے اور تنازعے کو پورے خطے میں پھیلنے سے بچانے پر زور دیتا رہا ہے۔ فیدان نے کہا کہ اجلاس میں شریک ممالک نے ایران جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات اور اصولوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اجلاس کے بعد جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان وادیفول نے کہا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب اور یمن کی حمایت پر بھی زور دیا۔