
دبئی، 27 اکتوبر 2026 (غفران): ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے منگل کے روز سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی، جو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کے ایک روز بعد ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے قومی مفادات کے تحفظ اور جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی شرائط پر قائم رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے تھے اور اس کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے پیر کے روز تہران کا دورہ کیا، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔ یہ تنازع فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ اگست میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے ان تینوں ممالک اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محسن رضائی اور سپریم لیڈر کی ملاقات میں علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوئی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تہران کے مطالبات پورے ہونے تک یہ معاملہ زیرِ بحث نہیں آئے گا۔ ایران مغربی ممالک کے ان خدشات کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔ تہران کے مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد امریکی پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنا ہوگی۔ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو تنازع کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔