Saturday, August 8

امریکی صدر ٹرمپ نے اسلحے کی کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا، کہا امریکہ کے پاس بھاری مقدار میں جنگی سازوسامان موجود ہے

واشنگٹن، 07 اگست 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ کو فوجی اسلحے اور گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس بڑی مقدار میں جنگی سازوسامان موجود ہے اور ملکی دفاعی پیداوار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم l پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس خاص طور پر بعض اقسام کے اسلحے اور گولہ بارود کی “بڑی مقدار” موجود ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق مزید اسلحہ تیار کر کے فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی کمپنیاں ملکی تاریخ میں سب سے بڑے پیمانے پر اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہیں اور نئے کارخانے اور مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ امریکہ کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے ردعمل میں سامنے آیا جن میں امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی پر خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ بعض رپورٹس کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی دستیابی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے، جبکہ کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کمیوں نے حالیہ امریکی فوجی حکمت عملی کو بھی متاثر کیا۔

ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے میڈیا کوریج کو گمراہ کن قرار دیا اور حساس معلومات افشا کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خفیہ معلومات لیک کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے حالیہ کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے اسلحے کی کمی کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان خبروں کو “جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے بیانات سے یہ مؤقف واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے مطابق امریکہ کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر مضبوط ہے اور مستقبل کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی پیداوار میں مزید سرمایہ کاری اور توسیع کا عمل جاری ہے۔