Sunday, August 9

کولمبیا کے نئے صدر نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، ٹرمپ سے قریبی تعلقات کا عزم

کیلی، کولمبیا، 8 اگست 2026 (نوشین): کولمبیا کے نومنتخب صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریئلا نے عہدہ سنبھالتے ہی منشیات اسمگل کرنے والے مسلح گروہوں کے خلاف سخت کارروائی اور امریکا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے اینڈین ملک کی سیاست میں نمایاں دائیں بازو کی سمت تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے۔48 سالہ سابق وکیل اور دوہری امریکی و کولمبیائی شہریت رکھنے والے ابیلاردو ڈی لا ایسپریئلا نے جمعہ کو نائب صدر جوزے مینوئل ریسٹریپو کے ہمراہ اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ دونوں رہنماؤں نے حلف برداری کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اپنی انتخابی مہم کے دوران مقبول ہونے والا فوجی انداز کا سلام بھی پیش کیا۔نئے صدر نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث مسلح گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں جنگلات میں قائم کوکین کی لیبارٹریوں کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ انہوں نے ملک میں ’’میگا جیلیں‘‘ تعمیر کرنے اور حکومتی اخراجات اور ریاستی ڈھانچے کا حجم کم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

ابیلاردو ڈی لا ایسپریئلا کے اقتدار سنبھالنے سے کولمبیا اور امریکا کے تعلقات میں بھی نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران واشنگٹن اور سابق کولمبیائی حکومت کے درمیان سفارتی کشیدگی رہی۔ نئے صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعاون کی حمایت کرتے ہوئے مشترکہ فوجی کارروائیوں اور کولمبیا کی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی میزبانی تک کی پیشکش کی ہے۔روایتی طور پر دارالحکومت بوگوٹا میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی تقریب اس بار کولمبیا کے جنوب مغربی شہر کیلی میں منعقد کی گئی، جو ملک کا مشہور سالسا دارالحکومت بھی ہے۔

تقریب میں کئی اہم عالمی شخصیات نے شرکت کی، جن میں ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش شامل تھے، جنہوں نے امریکی وفد کی قیادت کی۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی تقریب میں شریک تھے۔ سابق بائیں بازو کے صدر گستاوو پیٹرو نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ اس سے قبل وہ دارالحکومت بوگوٹا میں صدارتی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے اور اپنے دورِ حکومت کے اختتام پر الوداع کہا۔ابیلاردو ڈی لا ایسپریئلا کے اقتدار سنبھالنے سے کولمبیا کی سکیورٹی، اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، خصوصاً امریکا کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون میں مزید اضافے کا امکان ہے۔