
نیویارک، 18 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے اہم بحری راستوں میں کشیدگی میں فوری کمی اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام ’’محفوظ سمندر، مشترکہ سلامتی: بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ‘‘ کے موضوع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی مسابقت، بحری قزاقی، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور موسمیاتی خطرات کے باعث بحری سلامتی کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاقائی استحکام، توانائی کی قیمتوں اور عالمی غذائی تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے باب المندب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں اور بحری عملے پر حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بحری تجارت کو تنازعات اور کشیدگی کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے عالمی تجارت اور اقتصادی ترقی کا ذریعہ رہنا چاہیے۔ سفیر نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان بحری امن و سلامتی کے فروغ، تجارتی جہازوں کے تحفظ اور تمام زیر التوا معاملات کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا۔