
اقوام متحدہ، 27 اگست 2026 (غفران): پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے مسلسل قبضے کے معاملے کو سنجیدگی سے حل کرے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی آبادکاری میں توسیع، آبادکاروں کا تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جاری رہے گی، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر توجہ دلائی اور مسلسل اسرائیلی حملوں کے تناظر میں جنگ بندی کی مؤثریت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد اب تک 1,200 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جس سے یہ سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف حملے جاری رہنے کے باوجود جنگ بندی کو مؤثر کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوششوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا، جبکہ سلامتی کونسل کے تمام ارکان بھی ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے جنگی جرائم اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی اور پائیدار امن کے لیے سیاسی عزم کے ساتھ ساتھ انصاف اور احتساب بھی ضروری ہے۔ فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے منصفانہ، جامع اور دیرپا سیاسی تصفیہ ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ عاصم افتخار احمد نے فلسطین کی ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔