اقوام متحدہ، 31 جولائی 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام (ملٹی لیٹرل ازم) کو مضبوط بنانے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ نوجوان ایک پرامن، جامع اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں ناگزیر شراکت دار ہیں۔ “نوجوانوں کو بااختیار بنا کر کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا” کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نوجوانوں کی صلاحیتوں اور کردار پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔انہوں نے اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کو دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر سراہا۔
اپنے خطاب میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، جبکہ امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی اقوام متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی اور دیرپا امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر عمل درآمد سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی، ریاستوں کی خودمختار برابری، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی اپنی دیرینہ پالیسی پر ثابت قدم ہے۔
پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران پاکستان کی جانب سے تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل آواز اٹھانے اور ان سفارتی کوششوں کی حمایت کا بھی ذکر کیا جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن کی بنیاد صرف سفارتی کانفرنسوں میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو قبول کریں، عدم برداشت اور غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور مختلف ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مستقبل کے سفارت کار، پالیسی ساز، کاروباری رہنما، جدت پسند اور سماجی قائدین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری، مکالمے کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی نسل ایک زیادہ پرامن، منصفانہ اور جامع عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، تصادم کے بجائے مکالمہ اور خوفکے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں، اور ان کی کامیابی اور مستقبل کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
