
اسلام آباد، 14 اگست 2026 (غفران): پاکستان اور ناروے نے انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، پولیس تربیت اور باہمی قانونی معاونت سمیت سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاقِ رائے جمعہ کو وزارتِ داخلہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ ملاقات میں پاک ناروے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے غیر قانونی اور بے قاعدہ ہجرت کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اقدامات کو یورپی یونین نے بھی تسلیم کیا ہے۔وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی طریقوں سے ہجرت کے مواقع میں اضافہ غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم ہے۔ملاقات کے دوران افغانستان میں موجود کالعدم گروہوں کی سرگرمیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ محسن نقوی نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور وزیر داخلہ کے ساتھ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ایسپن بارتھ ایدے نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی مختلف شعبوں میں خدمات اور مثبت کردار کو بھی سراہا۔محسن نقوی نے ناروے کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا اہم موقع قرار دیا۔ایسپن بارتھ ایدے جمعرات کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان پہنچے تھے۔ دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ناروے کے ساتھ اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ناروے کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی سکیورٹی، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔