Tuesday, November 3

ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی کے امکانات، ری پبلکنز کی کئی دہائیوں کی سیاسی برتری خطرے میں پڑگئی

Texas on Verge of Historic Political Shift as Democrats Gain Ground in US Midterm Elections

اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (کامران راجہ): امریکی ریاست ٹیکساس میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس کی مقبولیت میں اضافے کے باعث تاریخی سیاسی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، جہاں ہسپانوی ووٹرز کے بدلتے رجحانات نے ری پبلکن سینیٹ کی نشست اور گورنر گریگ ایبٹ کی سیاسی پوزیشن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹیکساس میں 1994 کے بعد کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے ریاستی سطح پر کامیابی حاصل نہیں کی، جبکہ 1980 سے اب تک ریاست ہر صدارتی انتخاب میں ری پبلکن امیدوار کی حمایت کرتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ انتخابی جائزوں کے مطابق ریاست میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہورہی ہے، جس کی بڑی وجوہات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور عام شہریوں پر بڑھتے معاشی دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹیکساس کے ہسپانوی ووٹرز نے ٹرمپ کو تقریباً 10 فیصد برتری دی تھی، تاہم اب ان کی حمایت کا رجحان ڈیموکریٹس کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کُک پولیٹیکل رپورٹ اور ٹیلی ویزا یونی ویژن کے ایک حالیہ سروے کے مطابق سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو کو ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن پر ہسپانوی ووٹرز کی 63 فیصد کے مقابلے میں 30 فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا کو گریگ ایبٹ پر 60 فیصد کے مقابلے میں 33 فیصد برتری حاصل ہے۔ اسی سروے میں ہسپانوی ووٹرز کے درمیان صدر ٹرمپ کی مقبولیت صرف 33 فیصد سامنے آئی، جبکہ تقریباً دو تہائی افراد نے کہا کہ وہ ایسے امیدوار کی حمایت سے گریز کریں گے جو ٹرمپ کی ملک بدری کی پالیسی کی حمایت کرتا ہو۔ انتخابی رجحانات میں تبدیلی کے باعث ری پبلکنز کو اپنی روایتی سینیٹ نشست کھونے کا خدشہ ہے۔ ریئل کلیئر پولنگ کے اوسط جائزے میں جیمز تالاریکو کو کین پیکسٹن پر 49 فیصد کے مقابلے میں 46.5 فیصد برتری حاصل ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز اور سِینا کے سروے میں تالاریکو 50 فیصد کے مقابلے میں 43 فیصد حمایت کے ساتھ آگے ہیں، تاہم ٹرافالگر گروپ کے سروے میں دونوں امیدواروں کی حمایت 48، 48 فیصد رہی۔ دوسری جانب گورنر گریگ ایبٹ کو بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ مالی وسائل میں واضح برتری کے باوجود ریئل کلیئر پولنگ کے مطابق ایبٹ کو جینا ہینوجوسا پر صرف 2.3 فیصد برتری حاصل ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز، سِینا اور اٹلس انٹیلی جنس کے سروے میں ہینوجوسا ایک فیصد آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ انتخابی نتائج میں ہسپانوی اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے، کیونکہ یہ طبقات ماضی میں وسط مدتی انتخابات کے دوران نسبتاً کم ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔ دوسری جانب انتخابات پر پیش گوئی اور شرط بندی کے پلیٹ فارمز پر بھی بھاری مالی سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ کالشی اور پولی مارکیٹ پر پانچ بڑے انتخابی معاملات میں تقریباً 479 ملین ڈالر کے معاہدوں کی خرید و فروخت ہوچکی ہے، جن میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں طاقت کے توازن پر تقریباً 166.4 ملین ڈالر، ایوان نمائندگان کے کنٹرول پر 150 ملین ڈالر اور سینیٹ کے نتائج پر 50 ملین ڈالر سے زائد کی تجارت شامل ہے۔ صرف ٹیکساس کے دونوں انتخابی مقابلوں پر تقریباً 111.8 ملین ڈالر کی تجارت ہوئی، جس میں سینیٹ کے انتخاب پر 92 ملین ڈالر اور گورنر کے انتخاب پر 19.8 ملین ڈالر شامل ہیں۔ ان مارکیٹس میں بھی ڈیموکریٹ امیدواروں کے امکانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں، تاہم پیش گوئی کے نرخ ووٹروں کی حقیقی حمایت کی عکاسی نہیں کرتے اور کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تجارت کی مجموعی مالیت میں ایک ہی معاہدے کی بار بار خرید و فروخت بھی شامل ہوتی ہے، اس لیے اسے کسی ایک وقت میں لگائی گئی رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان پلیٹ فارمز کے حامی انہیں انتخابی رجحانات جانچنے کا اضافی ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات پر شرط لگانے سے جمہوری عمل کو منافع اور نقصان کے کھیل میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ انتخابی نتائج سے واضح ہوگا کہ ٹیکساس میں ری پبلکنز کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی برتری برقرار رہتی ہے یا ریاست امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا مرکز بن جاتی ہے۔