Wednesday, August 12

وزیراعظم کا نوجوانوں کے عالمی دن پر خطاب، نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی، سکل ایمبیسڈر اور پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا

اسلام آباد، 12 اگست 2026(کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی، سکل ایمبیسڈر پروگرام اور نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا باضابطہ اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی امید اور قومی ترقی کا بنیادی سرمایہ ہیں، انہیں ترقی کے سفر میں کسی صورت پیچھے نہیں رہنے دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی مہارتوں، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ تعلیم کے یکساں مواقع کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور روزگار کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی کے باعث کسی باصلاحیت بچے کو اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ دانش سکولوں کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور ان اداروں کا تعلیمی معیار کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے سے کم نہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جہاں اگلے سال کلاسز کا آغاز ہوگا۔ یہ یونیورسٹی ٹیکنالوجی، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی اور مستحق طلبہ و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب تک محنتی اور ہونہار طلبہ میں 7 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کر چکی ہے جبکہ رواں سال مزید 2 لاکھ 50 ہزار کروم بکس ملک بھر کے مستحق اور قابل طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیپ ٹاپ محض ایک مشین نہیں بلکہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک مشن ہے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ رواں سال میٹرک، ایف اے اور ایف ایس سی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایک ہزار طلبہ و طالبات کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے لیے چین بھجوایا جائے گا۔ ان کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی اور انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال چاروں صوبوں سے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو تربیت کے لیے چین بھجوایا گیا تھا اور رواں سال بھی مزید ایک ہزار نوجوانوں کو چین بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت خواتین کے لیے لیبر فورس میں 35 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ نوجوانوں کو ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب اور سہولت فراہم کی جائے گی۔ ہر سال اسٹارٹ اپس کے لیے 10 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام ایک ایسی فلاحی ریاست کے تصور کے تحت عمل میں آیا تھا جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔ حکومت نوجوان نسل کو وہ مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو ملک کو ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف لے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان بزرگوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے وجود میں آیا، جبکہ 2047ء کا پاکستان نوجوانوں کی سوچ، صلاحیت، محنت اور جذبے سے تشکیل پائے گا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ مستقبل کا وژن ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ دانش سکولوں کی طرز پر معیاری تعلیمی ادارے قائم کریں تاکہ کراچی سے پشاور اور گلگت بلتستان سے بلوچستان تک ہر بچے اور بچی کو تعلیم کے مساوی مواقع میسر آسکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ دور فنی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا دور ہے اور اگر پاکستان نے جدید علوم کو اپنی قومی ترقی کا حصہ نہ بنایا تو ترقی کی عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

تقریب سے وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر 2047ء کے پاکستان کے وژن کے حوالے سے خصوصی ویڈیو پیش کی گئی جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے نوجوانوں کے لیے تیار کردہ خصوصی ملی نغمہ بھی پیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی کور ٹاسک فورس کے ارکان میں اسناد تقسیم کیں جبکہ دانش سکولوں کے پوزیشن ہولڈرز اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو ایوارڈز بھی دیے۔

وزیراعظم نے دانش سکول فاضل پور کے ہونہار طالب علم محمد قاسم کی بھی حوصلہ افزائی کی، جس نے لاہور بورڈ کے ایس ایس سی پارٹ ٹو کے سائنس گروپ کے امتحان میں پہلی جبکہ مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔