
نیویارک، 23 ستمبر 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں، جن میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی تعاون، ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت، تعلیم اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں، کا جائزہ لیا گیا جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان روابط کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا اور یورپی یونین کے درمیان باقاعدہ الحاق مذاکرات کے آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے ایک ممکنہ علاقائی تجارتی اور رابطہ کاری مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی اور معمول کے حالات کی بحالی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔