اسلام آباد، 24 اکتوبر 2026 (نوشین): وزیراعظم شہباز شریف کا 30 نومبر سے روس کا چار روزہ سرکاری دورہ متوقع ہے، جس کے دوران ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کا امکان ہے۔ ملاقات میں سیاسی، سفارتی، تجارتی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ دورے کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات، علاقائی صورتحال، اقتصادی شراکت داری اور باہمی دلچسپی کے عالمی امور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات متوقع ہیں۔ بات چیت میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، توانائی کے شعبے میں تعاون، تیل و گیس کی فراہمی، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں روسی تعاون بھی ایجنڈے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بینکاری اور مالیاتی لین دین کو آسان بنانے، تجارتی ادائیگیوں کے نظام کو بہتر کرنے اور کاروباری برادری کو درپیش مشکلات دور کرنے کے معاملات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ علاقائی اور عالمی امور میں افغانستان کی صورتحال، خطے کی سلامتی، جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ دورے کے موقع پر پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا بھی امکان ہے، جس میں تقریباً 100 پاکستانی کاروباری رہنماؤں اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ فورم کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو باہمی ملاقاتوں، تجارتی شراکت داری کے فروغ، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، ادویہ سازی، صنعتی مصنوعات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں کے نمائندے شامل ہو سکتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے پہلے سے طے شدہ ایک دورے، جو بعد میں ملتوی کر دیا گیا تھا، کے دوران بھی بزنس فورم اور بڑے پاکستانی کاروباری وفد کی شرکت زیر غور تھی، جبکہ مجوزہ دورے میں سابقہ پروگرام کے اہم نکات برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم روس میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں، جس میں ان کے تعلیمی تجربات، مسائل اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات ہو گی۔ دورے کے پروگرام میں روس کے تاریخی اور ثقافتی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا ایک روزہ دورہ بھی زیر غور ہے۔ پاکستان اور روس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط اور اقتصادی تعاون کو وسعت دی ہے، جبکہ دونوں ممالک تجارت، توانائی، صنعتی ترقی، تعلیم اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ مجوزہ دورے سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، تاہم دورے کی حتمی تاریخوں، وفد کی تشکیل اور ملاقاتوں کے تفصیلی شیڈول کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
