
اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026 (نوشین): وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں پیش رفت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی زیر صدارت اجلاس کے بعد رات گئے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسائل باہمی افہام و تفہیم، مذاکرات اور سیاسی مشاورت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی خدمات اور مفاہمت پر مبنی طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے پر اصرار اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر مبینہ طور پر توجہ نہ دینے سے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھے گی۔ تاہم، انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی سے گریز کرے، کیونکہ اس طرح کی کارروائی مسائل حل کرنے کے بجائے صورتحال کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے۔ وزیراعظم نے قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے اور قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور تعمیری سیاسی روابط کو فروغ دینا چاہتی ہے۔