Thursday, September 17

میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری سے نیکٹا کا کردار دوبارہ توجہ کا مرکز

Maj Gen Faisal Naseer’s Appointment Puts Nacta Back in Focus

اسلام آباد، 5 ستمبر 2026 (کامران راجہ): میجر جنرل فیصل نصیر کو تین سال کے لیے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیے جانے کے بعد دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی سطح پر رابطہ کاری کے ذمہ دار ادارے کے کردار اور مؤثریت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق فیصل نصیر کو نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت ڈیپوٹیشن پر فوری طور پر نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ نیکٹا 2008 میں قائم کیا گیا تھا جبکہ نیکٹا ایکٹ 2013 کے تحت اسے انتظامی اور مالی خودمختاری دی گئی۔ ادارے کو قومی سطح پر انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہاپسندی کی کوششوں میں رابطہ کاری، حکمتِ عملی اور ایکشن پلانز کی تیاری، ان پر عمل درآمد کی نگرانی، تحقیق اور متعلقہ قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ دسمبر 2014 کے آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نیکٹا کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور ادارے نے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم نیکٹا کو مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور یہ بڑی حد تک دیگر سرکاری محکموں اور سروسز سے تعینات کیے جانے والے افسران پر انحصار کرتا رہا ہے۔ ادارے کے اعلیٰ فورمز کے اجلاسوں کے باقاعدگی سے انعقاد پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ نیکٹا کی ساتویں ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس اپریل 2024 میں ہوا تھا، جبکہ 4 ستمبر 2026 تک ادارے کی عوامی طور پر دستیاب ویب سائٹ پر آٹھویں اجلاس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز نے اپریل 2025 میں اجلاس کے دوران نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے قیام کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد انٹیلی جنس رابطہ کاری اور قومی سطح پر خطرات کے جائزے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ ابتدائی طور پر نیکٹا کا بورڈ ایک بااختیار فورم سمجھا جاتا تھا جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے تھے اور اس میں وزرائے اعلیٰ، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوتے تھے۔ بعد ازاں قانونی اور انتظامی تبدیلیوں کے تحت نیکٹا کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کر دیا گیا اور اب وفاقی وزیر داخلہ اس کے بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی امور میں وسیع تجربہ رکھنے والے میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری کے بعد یہ بحث دوبارہ زور پکڑ گئی ہے کہ آیا نیکٹا کو ایک زیادہ مؤثر اور بااختیار قومی سلامتی کے ادارے کے طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اہم چیلنج یہ ہوگا کہ نیکٹا کو اس کے بنیادی مینڈیٹ پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کے لیے مناسب ادارہ جاتی اختیارات، وسائل اور رابطہ کاری کا مؤثر نظام فراہم کیا جائے۔