
راولپنڈی، 19 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح تامی البغامی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سعودی سفیر نے پیر کے روز راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دونوں شخصیات نے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور تزویراتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی سفیر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی تعیناتی پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ تعلقات مشترکہ عقیدے، باہمی اعتماد اور تزویراتی شراکت داری پر مبنی ہیں۔ سعودی سفیر نے گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی سفیر سے ملاقات کے دوران یمن کی حوثی تحریک کے حملوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے بھی اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دیرینہ تزویراتی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے باہمی ترقی اور خوشحالی کے لیے دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور ممکنہ خطرات کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ اتحاد کے تحت ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کے انتظامات پر اتفاق کیا گیا۔ سات اگست کو دستخط کیے گئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کرنے کے اصول کے ذریعے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ سفارتی اور دفاعی سرگرمیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کی اطلاعات کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ اتوار کو نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ضروری تعاون فراہم کر رہا ہے۔