
قاہرہ/دبئی، 27 اگست 2026 (نوشین): قطر کے وزیراعظم جمعرات کو تہران کا دورہ کریں گے، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی رابطوں کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ خلیجی ملک قطر، جو ایران کا ہمسایہ اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے، دونوں فریقوں کے درمیان پس پردہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ قطر نے جون میں جنگ بندی کرانے میں بھی براہ راست کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے دونوں جانب سے لڑائی رک گئی تھی۔قطری وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب تنازع کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ اگرچہ لڑائی میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے کنٹرول سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دورے کے دوران قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات چیت متوقع ہے۔آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔اگرچہ حالیہ عرصے میں فوجی حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے، امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرلی ہے اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور کمپنیوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
حالیہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کم ہوکر تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ جنگ سے قبل یہاں سے تقریباً 2 کروڑ بیرل یومیہ خام تیل گزرتا تھا۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے اتفاق کرلیا ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بعد میں کہا کہ دونوں ممالک اب بھی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر کام کررہے ہیں۔ جنگ کے دوران ایران کی روایتی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود تہران کے پاس میزائل اور ڈرونز کی ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے آبنائے ہرمز میں متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن کے نتیجے میں کئی بحری کارکن ہلاک ہوئے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ قطر کی تازہ سفارتی کوششیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران بحران کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی وسیع تر عالمی کوششوں کا حصہ ہیں۔دوحہ نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھا ہے اور قطری قیادت مذاکرات، بحری آمدورفت کی آزادی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔