
دوحہ، 29 اکتوبر 2026 (غفران): قطر کے ثالثوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نئے مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک غیر ایرانی عہدیدار کے مطابق آٹھ ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کی نئی تجویز اتوار کو پیش کی گئی، جس کا تہران جائزہ لے رہا ہے اور ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے۔ قطر اور پاکستان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس تنازع کے باعث عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں اس کا دائرہ سعودی عرب اور یمن تک پھیل گیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق قطری تجویز میں تہران اور واشنگٹن کے تحفظات دور کرنے کے لیے سات روزہ لائحہ عمل شامل ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کو روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ عمل آئندہ ہفتے کے آغاز میں شروع ہو سکتا ہے، جبکہ متعدد ممالک معاہدے کے ضامن کا کردار ادا کریں گے۔ تاہم مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ قطر نے باضابطہ پیشکش کے بجائے صرف ناقابلِ قبول تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ جوہری معاملے پر ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے والی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق ایران کے منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد ممکن ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے کئی دہائیوں پر محیط جوہری پروگرام کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ابتدا ہی سے شامل کیا جائے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ پہلے اس کی شرائط پوری کی جائیں، جن میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔ ایران مغربی ممالک کے اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔