Monday, August 3

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 18 فلسطینی شہید، اسرائیل نے حملے روکنے کے معاہدے کی تردید کردی

قاہرہ/یروشلم(نوشین) – 3 اگست 2026: فلسطینی طبی حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں، جبکہ جنگ بندی معاہدے پر پیش رفت کی سفارتی کوششوں کے باوجود حملے جاری رہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اتوار کے روز غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں شمالی غزہ سٹی، وسطی علاقے دیر البلح اور جنوبی علاقے خان یونس شامل ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق حالیہ حملے کئی ہفتوں کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے پیش رفت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن، جو وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ غزہ میں حملے روکنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے امکان پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو اسرائیل غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایلی کوہن نے کہا، “امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں ہمارا مؤقف واضح ہے کہ حماس کا خاتمہ ضروری ہے، یہ سب سے پہلا قدم ہونا چاہیے۔” اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپل مین نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیل نے امریکی حکام کے سامنے حماس کے غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح ہونے سے قبل کوئی مزید پیش رفت نہیں ہوسکتی۔

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں، بے گھر افراد کے خیمے اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دیر البلح میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ خان یونس کے قریب مواسی کے علاقے میں ایک حملے میں ایک میاں بیوی اور ان کا 9 سالہ بیٹا جاں بحق ہوگیا۔ غزہ سٹی، جبالیہ اور دیگر علاقوں میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ بعض حملے حماس کے عسکری اہلکاروں اور نُخبہ فورس کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، جبکہ شہری ہلاکتوں سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے قائم امریکی قیادت والے “بورڈ آف پیس” نے 15 نکاتی منصوبہ جاری کیا ہے۔ غزہ کے لیے بورڈ کے خصوصی نمائندے نکولائے ملادینوف نے کہا کہ فریقین، ثالثوں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,230 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ حماس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی شرائط کے مطابق اسرائیل کو غزہ میں حملے روکنے اور اپنی فوجیں واپس بلانے چاہئیں، اس کے بعد ہی وہ ہتھیاروں کی حوالگی کے معاملے پر غور کرے گی۔ حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ حملوں میں اضافہ کرکے جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ سابق سینئر فتح رہنما محمد دحلان نے بھی کہا کہ امریکی حکام اسرائیل کے ساتھ حملے روکنے اور جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ثالثوں کی کوششوں کے باوجود اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔