Sunday, September 13

عراق میں سعودی عرب پر ڈرون حملے کی تحقیقات، ایران کے 3 سرحدی راستے بند

Iraq Probes Drone Strikes on Saudi Arabia, Closes Three Iran Border Crossings

بغداد، 13 ستمبر 2026 (نوشین): عراق نے سعودی عرب کی ایک آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تین سرحدی کراسنگ عارضی طور پر بند کردی ہیں۔ سعودی عرب اور عراق دونوں کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز عراقی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔ عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی راستوں کی بندش کا مقصد حملے کے ذمہ داروں کا سراغ لگانا، انہیں فرار ہونے سے روکنا اور ان راستوں کے ذریعے ڈرونز کی اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ بند کیے گئے راستوں میں بصرہ کا شلمچہ، میسان کا الشیب اور وسطی صوبے دیالی کا المنڈلی شامل ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ دیگر سرحدی گزرگاہیں بدستور کھلی ہیں۔ عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے مطابق متعدد سرحدی گزرگاہوں پر انتظامی اور سکیورٹی تنظیم نو کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور انٹیلیجنس سرگرمیاں بھی بڑھا دی گئی ہیں تاکہ سکیورٹی خلاف ورزیوں اور بے ضابطگیوں کا تعین کیا جاسکے۔ بعد ازاں دو سرحدی گزرگاہوں پر کئی گھنٹوں سے پھنسے مسافروں کو گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔ حملے کے فوری بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کی سرحد سے متصل صوبہ میسان کے فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کردیا، کیونکہ حکام کے مطابق ڈرونز اسی علاقے سے لانچ کیے گئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، جبکہ ایران نواز عراقی مسلح گروہوں کے ایک اتحاد نے پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ سعودی عرب ماضی میں ایسے گروہوں پر اپنی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرچکا ہے۔