
بیجنگ، 6 نومبر 2026 (کامران راجہ): عالمی سمندری ہفتہ 2026 کا آغاز جمعرات کو چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے شہر شیامن میں ہوا، جس میں عالمی سمندری نظم و نسق، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور نیلی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے چین کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر پانچ اہم نتائج پیش کیے گئے، جن میں زیرِ سمندر پہاڑوں سے متعلق ایک اشاعت اور سمندری ماحولیاتی معلومات پر مبنی خصوصی ڈیٹا پروڈکٹ شامل ہیں، جبکہ ہفتے کے دوران سمندری سائنس، ماحولیاتی تحفظ اور کاروباری روابط کے فروغ سے متعلق سیمینارز سمیت 33 سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت قومی حدود سے ماورا سمندری علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال سے متعلق معاہدے (بی بی این جے) کی حیثیت، اہمیت اور مستقبل کے امکانات کے ساتھ اس کے مذاکرات اور نفاذ میں چین کے کردار پر مبنی دو لسانی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ وزارت قدرتی وسائل کے ماتحت چائنا انسٹی ٹیوٹ فار میرین ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی کی مرتب کردہ رپورٹ میں اس معاہدے کے نفاذ کی اہمیت اور اس کی تیاری و عملی تطبیق میں چین کی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ بی بی این جے معاہدہ 17 جنوری 2026 کو نافذ العمل ہوا، جو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت تیسرا نفاذی معاہدہ ہے اور قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور انتظام سے متعلق قانونی خلا کو پُر کرتا ہے۔ چین نے تقریباً دو دہائیوں پر محیط مذاکرات میں حصہ لیا اور معاہدے کے چار بنیادی شعبوں میں تجاویز پیش کیں، جن میں سمندری جینیاتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم، سمندری علاقوں کے انتظامی اقدامات، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں میں شفافیت اور ترقی پذیر ممالک کی استعداد کار میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں۔ چین نے تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر سمندری رقبے پر ماحولیاتی تحفظ کی خصوصی حدود مقرر کی ہیں، 353 سمندری محفوظ علاقے قائم کیے ہیں اور سمندری ماحول کے تحفظ کے 194 منصوبے مکمل کیے ہیں۔ چین دنیا کے ان چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں مینگرووز کے رقبے میں مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چین نے اپنے انسان بردار گہرے سمندر میں غوطہ لگانے والے آبدوز نظام جیاؤ لونگ اور فین ڈوژے کے علاوہ ڈیپ سی نمبر ون جیسے تحقیقی بحری جہاز بین الاقوامی سائنسی مہمات کے لیے بھی دستیاب کیے ہیں۔ ملک میں سمندری جرثومی وسائل کے تقریباً 60 ہزار نمونے محفوظ ہیں اور بین الاقوامی محققین کو ان کے نمونوں اور سائنسی ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کی دہائی برائے سمندری سائنس کے تحت چین نے 10 بڑے بین الاقوامی سائنسی پروگراموں کی قیادت کی ہے، جن میں گہرے سمندر کے اہم مسکنوں کی ڈیجیٹل شناخت کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ چین نے بین الاقوامی سمندری تہہ میں سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کے جائزے سے متعلق قانونی نظام کو بھی بہتر بنایا ہے اور معدنیات کی تلاش میں مصروف اداروں کو ماحولیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ترغیب دی ہے۔ چین کا سائنسی تجربہ، ماحولیاتی ڈیٹا، مہارت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ترقی پذیر ممالک کو گہرے سمندر میں سرگرمیوں کے جائزے اور ماحول دوست، کم کاربن سمندری ترقی کے فروغ میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ مزید برآں، چین نے 50 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سمندری تعاون کے معاہدے کیے ہیں، 40 سے زیادہ سمندری تحقیقی مراکز اور مشترکہ لیبارٹریاں قائم کی ہیں اور 100 سے زائد چھوٹے سمندری تعاون کے منصوبوں پر تقریباً 20 کروڑ یوآن، یعنی لگ بھگ 3 کروڑ امریکی ڈالر، کی سرمایہ کاری کی ہے۔ چین نے سمندری سائنس، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور کے حوالے سے 300 سے زائد تربیتی کورسز بھی منعقد کیے، جن سے ترقی پذیر ممالک کے 6 ہزار سے زیادہ نوجوان محققین اور سرکاری حکام مستفید ہوئے۔ چین بی بی این جے معاہدے پر دستخط کرنے اور اس کا فریق بننے والے ابتدائی ممالک میں شامل ہے اور اس نے معاہدے کا سیکریٹریٹ شیامن میں قائم کرنے کی میزبانی کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے۔ چین نے معاہدے پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کے لیے مسلسل تعاون فراہم کرنے کے عزم اور صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔