Thursday, October 15

صدر مملکت کا یورپ میں پاکستانی کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے پر زور

President Calls for Greater Legal Migration Opportunities for Pakistani Workers in Europe

اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026 (نوشین): صدر مملکت آصف علی زرداری نے یورپ میں پاکستانی کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کے ساتھ قانونی راستوں، مہارت کی بنیاد پر نقل و حرکت اور یورپی یونین کے ساتھ منظم تعاون کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار یورپی کمشنر برائے داخلی امور و ہجرت میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کیا، جنہوں نے آج ایوانِ صدر میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، ہجرت کے انتظامات میں تعاون، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی طور پر تارکینِ وطن کو بیرونِ ملک بھیجنے کی روک تھام اور قانونی ہجرت کو آسان بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد تعاون کو اہمیت دیتا ہے اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پاکستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ واپسی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد کو واپس قبول کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مؤثر قانون سازی، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، سرحدی نگرانی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پُرعزم ہے۔

صدر مملکت نے یورپی یونین کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی ہے، جس کے باعث پاکستان اس خطے کا واحد ملک ہے جس نے اس حوالے سے اتنی نمایاں کمی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے اور محفوظ و قانونی ہجرت کے راستوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان نے غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی صلاحیت بڑھانے میں یورپی یونین سے معاونت طلب کی ہے۔ صدر مملکت نے زور دیا کہ قانونی ہجرت کے راستے پاکستانی کارکنوں کو محفوظ مواقع فراہم کرنے اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت و نقل و حرکت کے مکالمے کو ایک مفید فریم ورک قرار دیا، جو پاکستان کے انسانی وسائل کی صلاحیت کو یورپ کی افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال کے آغاز میں برسلز میں متوقع مکالمے کا اگلا دور اس شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دے گا۔