
واشنگٹن، 22 ستمبر، 2026 (کامران راجہ): چینی صدر شی جن پنگ کے رواں ہفتے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تائیوان کو اسلحے کی فروخت اور پہلے سے آرڈر کیے گئے ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے زور دینے کی توقع ہے، ذرائع کے مطابق چین اس مطالبے کے لیے 1982 کے امریکا۔چین مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دے سکتا ہے۔ چین تائیوان کے معاملے کو اپنے حساس ترین اور اہم ترین سفارتی مسائل میں شمار کرتا ہے اور امریکا سے تائیوان کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کے قانون کے تحت اسے تائیوان کو دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنا ہوتی ہیں، حالانکہ امریکا کے تائی پے کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیجنگ 1982 کے مشترکہ اعلامیے پر زور دے سکتا ہے، جس کے تحت امریکا نے تائیوان کو اسلحے کی فروخت بتدریج کم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جبکہ اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اس کمی کو چین کے جانب سے تائیوان کے ساتھ اختلافات کے پرامن حل کے عزم سے مشروط کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین واشنگٹن سے تائیوان کو پہلے سے آرڈر کیے گئے ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے اور آبنائے تائیوان میں عدم استحکام کی ذمہ داری تائیوان پر عائد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ شی جن پنگ بدھ کو واشنگٹن پہنچیں گے، جمعرات کو صدر ٹرمپ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات ہوں گے جبکہ جمعہ کو وہ امریکی نیشنل آرکائیوز کا دورہ کریں گے۔ امریکی حکومت نے اس سے قبل تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی منظوری دی تھی، جبکہ تقریباً 14 ارب ڈالر کا ایک اور پیکیج کئی ماہ سے زیر التوا ہے۔ تائیوان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور چین کے اعلیٰ سطحی رابطوں کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور واشنگٹن کے ساتھ مضبوط رابطہ برقرار رکھے گی۔