
دبئی، 18 ستمبر 2026 (کامران راجہ): چین نے سعودی عرب کی اپیل کے بعد ایران سے نجی طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مدد کرے۔ معاملے سے باخبر تین ایرانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کی تیز پیش قدمی کے بعد چین سے مدد طلب کی، جس سے سعودی تیل کی برآمدات اور عالمی بحری جہاز رانی کو خطرات بڑھ گئے ہیں۔ چین نے سرکاری طور پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا ہے، جبکہ نجی پیغام میں ایران سے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اہم توانائی کے راستوں پر تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کی درخواست کی گئی۔ ذرائع کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ خطے میں استحکام اور امن کا انحصار ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے پر ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین علاقائی کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک مزید پھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا اور تمام ممالک کی خودمختاری و سلامتی کے احترام، صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے اقدامات کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے۔ چین ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے، جبکہ بیجنگ کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بھی اہم اقتصادی و تزویراتی تعلقات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین کو ایک طرف اپنی توانائی کی فراہمی اور بحری تجارت کے تحفظ کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب تہران کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھنا بھی اس کے لیے اہم ہے۔ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے مسلسل حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہونے اور خطے میں وسیع تر تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔