
جنیوا، 18 ستمبر 2026 (نوشین): ایران سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ فروری میں ایران میں امریکی افواج کی جانب سے کیے گئے دو فوجی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے حکومت مخالف احتجاج کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ ایران کے لیے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی افواج نے میناب شہر میں شاجرے طیبہ پرائمری اسکول پر حملہ کیا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 اسکول کے بچے شامل تھے۔ مشن نے قرار دیا کہ یہ حملہ غیر امتیازی نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے مترادف ہے۔ مشن نے لامرد میں ایک اسپورٹس سینٹر پر امریکی حملے کے حوالے سے بھی اسی طرح کا نتیجہ اخذ کیا، جس میں 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو بھی نقصان پہنچا۔ تحقیقاتی مشن نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام نے گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم کارروائیاں کیں، جن میں غیر قانونی ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر شدید پابندیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے، تاہم مشن آزادانہ طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا۔ رپورٹ کے نتائج جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کیے جائیں گے، جبکہ مشن نے واضح کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ ادارے عدالتی ادارے نہیں ہوتے اور وہ فوجداری مقدمات شروع نہیں کرتے۔