Sunday, September 13

روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوشش، ٹرمپ کے نمائندے ماسکو پہنچ گئے

Trump Envoys Arrive in Moscow for Russia-Ukraine Peace Push

ماسکو، 5 ستمبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز ماسکو پہنچ گئے، جہاں وہ روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن منصوبے پر بات چیت کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھیجے گئے دونوں نمائندے ماسکو میں مذاکرات کے بعد کیف روانہ ہونے کی توقع ہے۔ یہ دورہ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے سب سے تباہ کن تنازع کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی تازہ سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکی نمائندوں کے دورے میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق روس نے رات کے دوران کیف کے دو ہوائی اڈوں اور دنیپرو کے علاقے میں ایک شہری ہدف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر کیے گئے حملے بظاہر امریکی نمائندوں کو یوکرین لے جانے کے لیے ممکنہ امریکی طیارے کے استعمال کی تیاریوں کا ردعمل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین سفارتی کوششوں کو دھمکیوں کے ذریعے متاثر نہیں ہونے دے گا۔ یہ دورہ گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد وٹکوف اور کشنر کا جنگ زدہ کیف کا متوقع پہلا دورہ ہوگا۔ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

کیف کا فضائی سفر غیر معمولی اقدام ہوگا کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد 2022 سے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے۔ عام طور پر غیر ملکی رہنما اور اعلیٰ حکام یوکرین کے دورے کے لیے ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ایک سینئر یوکرینی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی نمائندوں کی اتوار کے روز کیف پہنچنے کی توقع ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وٹکوف اور کشنر ہفتے کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں مذاکرات کار اس بات کا جائزہ لیں گے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن کی جانب بامعنی پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق نمائندے جنگ کے خاتمے کی ایک تجویز بھی اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا امن منصوبے میں یوکرین کی جانب سے کچھ علاقوں سے دستبرداری شامل ہوگی، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس امن کے لیے ایک منصوبہ موجود ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کو وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس سے قبل غزہ اور ایران میں جنگ بندی کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں بھی شامل رہے ہیں اور مذاکراتی عمل کے سلسلے میں متعدد مرتبہ ماسکو کا دورہ کرچکے ہیں۔