
برسلز، 3 اکتوبر 2026 (غفران): گروپ آف سیون (جی 7) ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ رکن ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکا نے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لائیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں امریکی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد نہیں کرے گا، اگرچہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وہ متعدد مرتبہ ایسی پابندی کے امکان کی حمایت کر چکے تھے۔ جی 7 کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تیل کے ذخائر میں کمی کا عمل عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ذریعے مربوط کیا جائے گا اور پہلے سے کیے گئے وعدوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ ذخائر سے تیل اور ڈیزل کا اجرا فوری طور پر شروع ہوگا اور چار ماہ تک جاری رہے گا، جبکہ جی 7 ممالک اور شراکت دار ممالک کی جانب سے بڑی مقدار میں ڈیزل 20 دن کے اندر جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مختلف ممالک خام تیل، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی کتنی مقدار جاری کریں گے۔ یہ معاہدہ مارچ میں ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد 40 کروڑ بیرل کے ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جو تاریخ میں سب سے بڑا ہنگامی ذخائر کا اجرا تھا۔ آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول کے مطابق رکن ممالک اس معاہدے کے تقریباً دو تہائی حصے کے برابر ذخائر پہلے ہی جاری کر چکے ہیں۔ جی 7 ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے واشنگٹن پر امریکی ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ ایران جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد یورپی ممالک نے رواں سال امریکی ڈیزل کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ جی 7 کا یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایندھن کی قیمتیں کم کرنے اور ٹرکنگ اور زرعی شعبے سمیت ڈیزل پر انحصار کرنے والی صنعتوں اور صارفین پر بڑھتی توانائی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔