Sunday, September 13

تباہ کن سیلاب کے 10 روز بعد نیپال کی سرنگ سے چینی شہری زندہ بازیاب

Chinese National Rescued Alive from Nepal Tunnel 10 Days After Catastrophic Flooding

نیپال، 5 ستمبر 2026 (نوشین): نیپال میں امدادی ٹیموں نے ہفتے کے روز ملبے تلے دبی ایک سرنگ سے چینی شہری کو زندہ نکال لیا۔ یہ شخص 10 روز قبل آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتا تھا، جبکہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہزاروں افراد لاپتا ہوئے ہیں۔ فوج کے مطابق نیپالی فوج اور غیر ملکی ماہرین پر مشتمل مشترکہ امدادی ٹیم نے ضلع رسووا میں اپر تریشولی-1 ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ کے اندر تقریباً 225 میٹر کے فاصلے سے چینی شہری کو بازیاب کیا۔ زندہ بچ جانے والے شخص کی شناخت لو ہائی تاؤ کے نام سے ہوئی ہے، جو شدید کیچڑ میں ڈھکا ہوا تھا۔ امدادی حکام کے مطابق اس کی صحت کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ لو ہائی تاؤ ان سیکڑوں ہائیڈرو پاور ورکرز میں شامل تھا جو 26 اگست کو چین-نیپال سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر برفانی تودے اور چٹانیں گرنے کے بعد آنے والے سونامی نما پانی اور کیچڑ کے ریلے میں لاپتا ہوگئے تھے۔جمعے کے روز دو نیپالی ہائیڈرو پاور ورکرز کو بھی تریشولی 3 اے سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا تھا، جبکہ دیگر مقامات پر بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیلاب کے باعث کم از کم 12 ہائیڈرو پاور منصوبے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیپال کی قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق ملک میں اب تک 1,344 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں جبکہ تقریباً 5,000 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ پڑوسی ملک چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق وہاں 31 افراد ہلاک اور 531 لاپتا ہوئے ہیں، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1,375 ہوگئی ہے جبکہ 5,500 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ نے بتایا کہ سرنگوں کے اندر ممکنہ زندہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکومت نے اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ متعدد بند سرنگوں میں 100 سے زائد افراد اب بھی زندہ ہوسکتے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے کئی روز تک سیلابی ملبے تلے پھنسے افراد کی زندہ بازیابی کو معجزہ قرار دیا ہے۔ جمعے کو بازیاب ہونے والے دونوں نیپالی کارکنوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ بھارت، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کی امدادی ٹیمیں بھی نیپالی حکام کے ساتھ مل کر بند سرنگوں اور دیگر متاثرہ علاقوں میں تلاش کا کام کر رہی ہیں۔ متاثرین کی بڑی تعداد کے باعث مردہ خانوں میں گنجائش کم پڑنے پر نیپال پولیس کے مطابق تقریباً 1,030 لاشوں کو ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ان کی شناخت ممکن بنائی جاسکے۔ دریں اثنا، وزیراعظم بالیندر شاہ نے قدرتی آفت کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو، جو اس وقت عارضی امدادی کیمپوں میں مقیم ہیں، محفوظ اور آرام دہ رہائش فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔